پی سی بی کا ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کم نہ کرنے کا فیصلہ مگر کیوں؟ کرکٹرز کیلئے اچھی خبر 

Aug 10, 2020

پی سی بی کا ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کم نہ کرنے کا فیصلہ مگر کیوں؟ کرکٹرز کیلئے اچھی خبر 
۔

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے عالمگیر موذی وباءکورونا وائرس کے باعث ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کم نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ 
تفصیلات کے مطابق ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس ندیم خان کا کہنا ہے کہ احتیاطی تدابیر کے ساتھ پورا ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کرانے کی کوشش کریں گے، دیگر ممالک کے مقابلے میں ہمارے ملک میں کرکٹ سے وابستہ افراد کے معاوضے بہت کم ہیں، اس لئے ہمیں ان کا خیال رکھنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر میچز کم ہوں گے تو ان کی آمدنی کم ہو گی جو کہ موجودہ صورتحال میں مناسب نہیں ہے، ہمیں ان کا احساس ہے، اس لئے میچز کم نہیں کئے جائیں گے تاکہ ان کی آمدنی کم نہ ہو، کھلاڑیوں، میچ آفیشلز اور دیگر لوگوں کو مالی مسائل سے کسی طور پر دوچار نہیں کرنا چاہتے

تعلیمی اداروں کو ایس او پیز کیساتھ 15اگست کو کھول دیئے جائیں گے: سراج الحق

Aug 10, 2020

جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ملک کے دیگر شعبوں کی طرح عصری اور مذہبی تعلیمی اداروں کو 15 اگست سے (ایس او پیز) کے تحت پوراََ کھول دیں۔ تعلیمی پالیسی سازی میں نجی تعلیمی اداروں کے مالکان اور ماہرین کو شامل کیا جائے۔ نجی تعلیمی اداروں کے لئے حکومت ریلیف پیکج کا اعلان کریں۔ نجی تعلیمی اداروں کے اساتذہ کے تنخواہیں، یوٹیلیٹی بلز، عمارتوں کے کرائے اور بچوں کی فیس حکومت جمع کریں۔ تفصیلات کے مطابق نافع پاکستان کے زیر اہتمام نجی تعلیمی اداروں کے مسائل و مشکلات اور حالیہ بندش کے حوالے سے نجی تعلیمی اداروں کے ذمہ داران سے گفتگوں کرتے ہوئے کیا۔اس دوران نافع ضلع چارسدہ کے چئیرمین اور پین کے پی کے کے صوبائی نائب صدر جاوید خان بھی موجود تھے۔جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق نے نجی تعلیمی اداروں کے ذمہ داران سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 25-اے کے مطابق ہر بچے کو تعلیم دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔لیکن اسوقت ÷60 بچے نجی تعلیمی ادروں میں زیر تعلیم ہے۔اگر یہ نجی تعلیمی ادارے نہ ہوتے تو کیا حکومت کے پاس اتنی عمارتیں، اتنے اساتذہ اور اتنا اچھا نظام موجود ہے۔اگر حکومت کے پاس نظام ہوتا تو اب 2.5 کروڑ بچے تعلیمی اداروں سے باہر نہ ہوتے۔مرکزی امیر نے کہا کہ نجی تعلیمی اداروں نے حکومت کو سہارا دیا ہے۔حکومت کو انکی حوصلہ افزائی کر نی چاہئے تھی۔ کرونا کی وجہ سے نجی تعلیمی اداروں کی بندش کے دوران بچوں کی فیس، اساتذہ کی تنخواہیں اور عمارتوں کا کرایہ حکومت کو ادا کرنا چاہئے تھا۔ لیکن حکومت نے نجی تعلیمی اداروں کو بے سہارا چھوڑ دیا۔ حکومت سے مطالبہ ہے کہ ملک کی دیگر شعبوں کی طرح 15 اگست سے نجی تعلیمی ادارے اور مدارس کو فِل فور کر دی جائے اور عصری و مذہبی تعلیمی اداروں کی تمام مسائل و مشکلات کو فوراََحل کریں۔ جماعت اسلامی نجی تعلیمی اداروں کے مسائل و مشکلات کو حل کرنے میں ان کے ساتھ بھر پوار تعاون کرے گی۔ اجلاس سے نافع کے مرکزی ڈائرکٹر ھدایت خان نے بھی خطاب کیا۔

رحمان ملک نے سنتھیارچی کو50 ارب ہرجانے کا دوسرا نوٹس بھجوا دی

دوسرا نوٹس ٹی وی پر بےبنیاد الزامات لگانے پر بھیجوایا گیا، امریکی خاتون کواس کے جھوٹ کے پلندے کیساتھ انصاف کے کٹہرے میں لاؤں گا۔ سابق وزیرداخلہ رحمان ملک

منگل 9 جون 2020

رحمان ملک نے سنتھیارچی کو50 ارب ہرجانے کا دوسرا نوٹس بھجوا دیا

پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنماء اور سابق وزیرداخلہ سینیٹررحمان ملک نے امریکی خاتون سنتھیارچی کو 50 ارب ہرجانے کا دوسرا نوٹس بھجوا دیا، دوسرا نوٹس ٹی وی پر بےبنیاد الزامات لگانے پر بھیجوایا گیا، امریکی خاتون کواس کے جھوٹ کے پلندے کیساتھ انصاف کے کٹہرے میں لاؤں گا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سینیٹ میں چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے داخلہ رحمان ملک نے سنتھیارچی کو 50 ارب ہرجانے کا دوسرا نوٹس بھی بھجوا دیا ہے۔
رحمان ملک کے وکلاء نے امریکی خاتون سنتھیارچی کو نوٹس بذریعہ کوریئربھیجوا دیا۔ ترجمان نے بتایا کہ دوسرا نوٹس سنتھیارچی کو نجی چینلز پر رحمان ملک کیخلاف من گھڑت الزامات لگانے پرجاری کیا۔ سینیٹررحمان ملک نے کہا کہ سنتھیارچی کے لگائے گئے الزامات جھوٹ کا پلندہ ہیں۔
سختی سے تردید کرتا ہوں۔ سنتھیارچی نے ٹی وی پروگراموں میں نازیبا اور بےبنیاد الزامات لگائے۔

امریکی خاتون کواس کے جھوٹ کے پلندے کیساتھ انصاف کے کٹہرے میں لاؤں گا۔ اس سے قبل بھی رحمان ملک نے امریکی خاتون سنتھیا رچی کو50 کروڑ ہرجانے کا نوٹس بھجوایا، قانونی نوٹس میں سنتھیارچی کے الزامات  کی سختی سے تردید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سنتھیارچی سے کوئی ذاتی جھگڑا نہیں وہ ایک دوست ملک کی شہری ہے۔ بینظیربھٹو شہید اور میری کردارکشی کے پیچھے کون سے عناصر ہیں۔
میں وقت آنے پر بےنقاب کروں گا۔ شہید بینظیربھٹو کی تکریم کی لڑائی ہے جو پوری قوم کی قائد ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بینظیر بھٹو شہید کیخلاف نازیبا الزامات پر بطور چیئرمین سینیٹ قائمہ کمیٹی داخلہ نوٹس لیا تھا۔ نوٹس کے ردعمل میں پر مجھ پر نازیبا، من گھڑت اور جھوٹے الزامات لگائے گئے۔ بطور کمیٹی چیئرمین سخت اقدامات لینے پر میری کردار کشی شروع کی گئی۔
حکومت کیخلاف سخت بیانات پرمجھے قید اورقتل کرنے کی دھمکیاں بھی ملی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اوچھے ہتھکنڈوں سے ڈرنے والا نہیں۔ ماضی میں بھی موت کا سیل دیکھ چکا ہوں۔ دوسری جانب امریکی شہری سنتھیارچی نے عدالت میں جواب داخل کرانے کیلئے وکیل کرلیا ہے۔ ناصرعظیم خان ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ سنتھیارچی نے مجھے اپنا وکیل مقرر کیا ہے۔ 13جون کو ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں سنتھیارچی کی طرف سے پیش ہوں گا۔ آئندہ سماعت پرعدالت میں پاورآف اٹارنی جمع کرایا جائےگا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *